اپریل 06
وفا سے یوں تو بے بہرہ نہیں ہے
مگر یہ دل کہیں ٹھہرا نہیں ہے
غمِ دوراں نہ ہو جس کا مداوا
کوئی دکھ اس قدر گہرا نہیں ہے
ترے جیسے کئی دیکھے ہیں لیکن
ان آنکھوں میں کوئی ٹھہرا نہیں ہے
ہمارے خواب ہی پتھرا گئے ہیں
ہماری سوچ پر پہرا نہیں ہے
کسی بت سے سعید اپنا تعلق
سمندر ہے مگر گہرا نہیں ہے
اپریل 06
مری افراد یتی
تجھے اک نظر دیکھ کر میرے اندر
یکایک
مری سات پشتوں کی سرگوشیاں
جی اٹھی ہیں
مری روح
جو اک فسردہ خلا تھی
عبادت کدہ ہے
مرے جسم کا دل گرفتہ پجاری
پرستش کی ضد کر رہا ہے
مری افراد یتی
تری مسکراہٹ
تری مائل و کافرانہ نظر سے
یہ لگتا ہے جیسے
تجھے سب خبر ہے
کہ شاید کہیں اس سے پہلے بھی ہم
مور اور مورنی کا یہ رقصِ طلب
کر چکے ہیں
Aphroditeمحبت کی یونانی دیوی
اپریل 06
فراز کے نام ایک خط۔ ۔ ۔ اگست2005
فراز تجھ پہ نچھاور ہیں اہلِ دیدہ و دل
تو ایک جاں ہے مگر قافلے کی صورت ہے
فراز تجھ سے ہراساں ہیں اہلِ حرص و ہوس
کہ حرف حرف ترا آئینے کی صورت ہے
ترا فراز مدح خوانِ دست بستہ کو
کسی سند کسی دربار سے نہیں ملنا
ترا فراز کسی ’’بارہویں کھلاڑی‘‘ کو
جنونِ خلعت و دستار سے نہیں ملنا
ترا فراز کسی دستۂِ سبک سر کو
فروغِ حلقہِ خونخوار سے نہیں ملنا
ترا فراز کسی خود سِتا محاسب کو
فریبِ گردشِ بازار سے نہیں ملنا
فراز تجھ پہ نچھاور ہیں اہل دیدہ و دل
اپریل 06
تیرے الجھے ہوئے جذبات سے کیا کچھ نمایاں ہے
کبھی ان مہرباں آنکھوں سے حیرانی جھلکتی ہے
کبھی اس پھول سے چہرے سے ویرانی جھلکتی ہے
تری چاہت کے اک پل میں کئی موسم نکلتے ہیں
تری خوشیوں کے دامن میں بھی اکثر غم نکلتے ہیں
یہ دکھ ان محترم خوابوں کی ناقدری کا ماتم ہے
جو ٹھکرائے گئے کہہ کر فریبِ داستان اب تک
یہ دکھ اس بے سکوں دھرتی کا بے آواز گریہ ہے
جسے پامال کرتے ہیں ہوس کے کارواں اب تک
یہ دکھ ان بے سرو سامان لوگوں کی امانت ہے
جنہیں تہذیب نے لاکر سجایا قتل گاہوں میں
یہ دکھ ان گمشدہ نسلوں کی پوشیدہ نشانی ہے
جنہیں سونپا گیا تھا چھین کر مذہب کی بانہوں میں
ترے الجھے ہوئے جذبات سے کیا کچھ نمایاں ہے
Eoraآسٹریلیا کے آبائی Aboriginalقبیلے کے لوگوں کیلئے استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ’’مقامی‘‘ کے ہیں۔
اپریل 06
لٹ چکے بک چکے پھر بھی آزار میں
کب سے بے بس ہیں مغرب کے بازار میں
یہ کمانیں، یہ شمشیر و تیر و سناں
میرے آباء کی جدوجہد کے نشاں
یہ چاندی یہ سونا یہ لعل وگہر
جاوداں کر گیا جن کو دستِ ہنر
یہ شکستہ صنم یہ حسیں مورتیں
میری تہذیب کی گمشدہ صورتیں
یہ ٹوٹی ہوئی خوشنما طشتری
جس پہ لکھی ہے تاریخِ کوزہ گری
یہ شکستہ صراحی پہ تشنہ سبو
مجھ سے کرتے ہیں بے ساختہ گفتگو
جا بجا یہ نوادر سجائے ہوئے
مجھ سے شاکی ہیں یہ بت چرائے ہوئے
لٹ چکے ٗ بک چکے ٗ پھر بھی آزار میں
کب سے بے بس ہیں مغرب کے بازار میں
اپریل 06
عشرتِ بادہِ گلفام اٹھا لائے ہیں
دوست کچھ غم بھی سرِشام اٹھا لائے ہیں
شاعری ہم تری زینت کیلئے دکھ اپنے
دامنِ دل سے سرِبام اٹھا لائے ہیں
اور کچھ طعنہ و دشنام کی صورت نہ رہی
یار محفل میں ترا نام اٹھا لائے ہیں
ہم کہ اب گھر میں بھی رہتے ہیں سرائے کی طرح
صبح دم نکلے تھے اور شام اٹھا لائے ہیں
خواب مہکے ہیں سحر دم کہ صبا کے جھونکے
خوشبوئے یارِ گل اندام اٹھا لائے ہیں
شعبدہ باز مرے غم کی تسلی کو سعید
پھر کسی جشن کا پیغام اٹھا لائے ہیں
اپریل 06
مرا دل بے نشاں کشتی
ترے جذبات کے طوفان زدہ
ناراض موسم میں
نجانے کب سے لرزاں ہے
کہاں تک سرد لمحوں میں سلگناہے؟
کہاں تک اجنبی موسم نبھانے ہیں ؟
چرا کر دل زدہ خوابوں کے دامن سے
شفق ساماں لفافے میں
سجا کر دو عدد قطرے بہاراں کے
اگر بھیجو
تو شاید شام ڈھل جائے
اپریل 06
چلو پھر کرچیاں چنتے ہیں آئینے اٹھاتے ہیں
سعید آئو کسی پتھر سے قسمت آزماتے ہیں
بہت دیکھی ہے ویرانی ہمارے خانہِ دل نے
چلو دیوارِ دل پر اک نئی صورت بناتے ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مرے دن رات پر چھایا ہے عکسِ دلنشیں کوئی
محبت اب مری آنکھوں کی بینائی میں رہتی ہے
سنا ہے اس کی سوچوں میں بھی اب ہلچل مچاتی ہے
وہ بے چینی جو میرے دل کی گہرائی میں رہتی ہے
اپریل 06
عجب نہیں کہ بتِ بے نیاز کھل جائے
میں رُخ کروں تو وہ زلفِ دراز کھل جائے
دکھائی دے اُسے تصویر سے تصور تک
جس آئینے پہ ترا عکسِ ناز کھل جائے
وہ جلوہ گاہ میں آئے تو اک جہاں پہ مرے
جنوںِ دیدہ و دل کا جواز کھل جائے
ہم اہلِ درد کی صحبت میں یہ بھی ممکن ہے
کھلے نہ فتنہ مگر فتنہ ساز کھل جائے
سعید اُن کو صحیفوں سے کیا غرض جن پر
حدیثِ غالب و فیض و فراز کھل جائے
اپریل 06
کسی کھوئے ہوئے منظر کا خیال آیا ہے
چُن کے دیوار ہمیں در کا خیال آیا ہے
خود سے ٹکرا گئے پردیس کے آئینے میں
اب کہیں جا کے ہمیں گھر کا خیال آیا ہے
پھر ہمیں خاک بسر لگتی ہے یہ منزلِ دل
جانے کس راہ کے پتھر کا خیال آیا ہے
دل کی پیشانی پہ سجدوں کے نشاں جاگے ہیں
جب کبھی اس بتِ کافر کا خیال آیا ہے
ہم کہ خود اپنی تمنا کے سکندر تھے سعید
اس سے بچھڑے تو مقدر کا خیال آیا
حالیہ تبصرے