-
انتساب
-
سعید کی شاعری - احمد فراز
-
عشق کا فیض- نوشی گیلانی
-
جانے کس دشت کا
آزار ہو کل ساتھ مرے
-
موسم بھی نیا اب کے
ٹھکانے بھی نئے
ہیں
-
کس قدر تجھ کو تری ذات
سے ہٹ کر سوچا
-
دل چاک ہے سو داغ بھی
دامن سے لگے ہیں
-
وہ بت گرفتہ دلوں کا
نصیب ہو کر بھی
-
راہ چلتے ہوئے راہی کا
گلہ کون کرے
-
مری فصیلِ انا میں
شگاف کر کے رہے
-
اس نے دیکھا ہے
-
زلف ِ جاناں تری
خوشبو کے سہارے تک ہے
-
جب کسی درد کو سہلاتے
-
حشر کیسا بھی ہو برپا
نہیں دیکھا جاتا
-
سب سمجھ کر بھی زیادہ
نہ سمجھ
-
یوں تو کیا کیا
راحتیں دامانِ ساحل میں
نہیں
-
سرِبازار لُٹ کر بھی
دہائی اب نہیں
دیتے
-
آنکھوں کو زخم زخم
تو دل کو لہو کریں
-
سپردگی کا قرینہ سبھی
کو آتا ہے
-
اس شہر میں رسوائی کا
سامان بہت ہے
-
دوستوں کے درمیاں
ہوتے ہوئے
-
لب کشا شہرِ ملامت ہے
چلو پوچھتے ہی
-
قربت کا سبب ہو
بھی تو کھُل کر
نہیں ملتے
-
کسی بھی سنگِ ملامت
سے جی نہیں بھرتا
-
جو گریزاں ہو نہ
بیباک ملے
-
وہ جو ہر لب پہ ہے
رنگین فسانے کی طرح
-
کیف جنون سے دیر و
حرم بولنے لگے
-
ابر سے جیسے ہم آغوش
ہو ساون کی ہوا
-
وہ کوئے دل ہو کہ اہلِ
نظر کے دروازے
-
پھول جس کے لب و
رخسار کے شیدائی ہیں
-
جب وہ صہبا سے بہک
جاتی ہے
-
پھر کسی آس میں رہ
کر دیکھیں
-
میں خوش نہیں ہوں کہ
شب کے مصاحبین کے
ساتھ
-
کچھ التفاتِ یار میں
رنجیدگی بھی ہے
-
دل شکستہ ہیں نہ
پامال نظر آتے ہیں
-
روشنی کا نشان چاہتے
ہیں
-
اب لطف و بے خودی کے
وہ موسم نہیں رہے
-
وہی ہے دل کی ضرورت
جو آس پاس رہے
-
ہم خانہ خرابوں کو
بھلے ٹھیک نہ سمجھو
-
دشت پرآب ہے کئی دن
سے
-
دل کی محفل میں بٹھا
کر کبھی نزدیک سے
دیکھ
-
اسے بکھرے ہوئے لوگوں
سے رغبت ہے
-
بند گلی
-
بارش
-
موت کی کشتی
-
بقاء کا المیہ
-
Cyprus Club
-
دھنک
-
قید ِمحبت
-
عسکری دائرہ
-
آئینہ
-
بے خودی
-
آزادی
-
پائل
-
ادھر لمحہ لمحہ
-
سسی کی سہیلی
-
تلاش
-
کسی کھوئے ہوئے منظر
کا خیال آیا ہے
-
عجب نہیں کہ بتِ بے
نیاز کھل جائے
-
قطعات
-
closure
-
عشرتِ بادہِ گلفام
اٹھا لائے ہہی
-
میوزیم
-
EORA GIRL
-
فراز کے نام ایک خط۔
۔ ۔ اگست2005
-
رقصِ طلب
-
وفا سے یوں تو بے
بہرہ نہیں ہے
-
قصیدہ
-
تو بتا اے دلِ بیتاب
کہاں آتے ہیں
حالیہ تبصرے