
احمد فراز کے نام
اردو شاعری کی فضا میں سعید کی آواز تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہے۔
سعید کے تازہ مجموعہ کلام ایک مٹھی میں مرے خواب میں شامل نظمیں اور غزلیں اس کے خواب سہی مگر ان کا پھیلاوً اہل دل کی دنیا کو محیط کئے ہوئے ہے۔ سعید نے جس معاشرے میں رہ کر شاعری کی ہے دیگر محاسن کے علاوہ وہاں کے لوگوں کی محرومیوں اور اداسیوں کی جھلک اس کی شاعری میں واضح اور نمایاں نظر آتی ہے اور مغربی معاشرے میں رہ کر سبھی چھوٹے بڑے تجربات کا احاطہ کرتی ہے۔ ہجرت زدگی کی کوکھ سے ابھرنے والے تہذیبی اور سماجی مسائل اس کی شاعری کا خاص موضوع ہیں اور بعض نظموں کے موضوعات اتنے اچھوتے ہیں جنکی مثال ہمیں کہیں اور نہیں ملتی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
احمد فراز
عشق ہی تو ہے جو بصارت کو بصیرت میں۔ ۔ ۔ وحشت کو عبادت میں ۔ ۔ ۔ عداوت کو رضاعت میں یوں تبدیل کرتا ہے کہ عمر کے منظرنامے پر نئے رنگوں کے نقش بننے لگتے ہیں۔ زرد پھولوں کی بارش بھی ہوا کے آنچل پر اپنے لمس کے انگار اس طرح چھوڑ جاتی ہے کہ روح کے رخسار ان کی نرمیوں سے دہک اٹھیں۔
بدن کی مٹی میں عشق کا گلاب جڑ پکڑ لیتا ہے تو درویش کا چولا کتنا ہی میلا کیوں نہ ہو اس کا وجدان خوشبو کے معجزے تخلیق کرتا ہے۔ ۔ ۔ روشنی کی آیتیں تحریر کرتا ہے ٗ کبھی عروسِ شب کی پیشانی پر تو کبھی بادِ صبح کی حیرانی پر۔ اک کیفیت حال دھمال ہے جو اندر کا الائو بجھنے نہیں دیتی۔ آہوں کی پکھیاں جھلتے سانسوں کی تسبیح ٹوٹنے لگتی ہے۔ ہڈیوں کا بالن بن جاتا ہے۔ پر ہستی میں مستی ٗ فقیری میں بادشاہی ٗ نیاز مندی میں بے نیازی کا بھید مل جاتا ہے۔ گویا عشق کا فیض بھی دعا کے فیض کی طرح جلد یا بدیر اپنی تاثیر کی گواہی دیتا ہے اور جب اس کیفیت کا دائرہ شاعر کے گرد بنتا ہے تو لفظ قوت اظہار کے ہم سفر ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمسفری خواہ چاند تاروں کی ہو یا شب آثاروں کی اپنے ہنر تو اجاگر کرتی ہے سو شاعری کبھی خیمہ۔ ۔ ۔ میں تو کبھی چاندنی کے جائے نماز پر سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔ یہ موسم سعید کے آنگن میں ٹھہرتا ہے تو وہ کہتے ہیں۔
میں آوارہ بادل ہوں
تو ساون کی تیز ہوا
آئو مل کر خوابوں کو تصویر کریں
جب تھک جائیں
قطرہ قطرہ
رم جھم ٗ رم جھم
خاک میں سوئی خوشبو کو بیدار کریں
رنگوں کو آزاد کریں۔
کون ہے جو راتوں میں خوابوں کا پڑائو نہیں چاہتا مگر یہ کوئی ایسا نگر ہے جو خواہش سے مشروط ہے۔ ہجرو وصال کے جزیروں پر کوئی اور یہ ضابطے ترتیب دینے والا۔ کوئی جذبہ دیوانگی ہے جس کی مدھر ان دیکھی گونگی زنجیریں جو پائوں پڑ جاتی ہیں اور جو سنائی دیں نہ دکھائی پر ان کیلئے وجود کو کہیں تھمنے نہ دے اور رتجگے جو مسکراتے رہیں آنکھوں کی خوشنما حویلیوں میں
ادھر جبیں پہ سنبھلتے نہیں مرے سجدے
اِدھر خدا کا عبادت سے جی نہیں بھرتا
وہ محوِ شوق ہے کب سے مگر مرے اندر
عجب خلا ہے محبت سے جی نہیں بھرتا
شعلہِ غم آتش دل جو بھی ہو
وقت لگتا ہے دھواں ہوتے ہوئے
صحن شعور میں کیا کیا عالم نہیں گزرتے۔کبھی بھیگتی راتوں میں دور تک پھیلے اجنبی ٹیلوں کے درمیان بنتے راستوں پر قافلے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں تو کوئی صحرائی آواز کونجوں سے ہم کلام گیت گاتی ہے اور راستے بناتی جاتی ہے جیسے جستجو کی تسخیر کو بصارت مل جائے۔
کبھی بچپن والے با غوں میں پرندوں کے پر اکٹھے کرنے کا جنون ماہ و سال گزرنے کا احساس نہیں ہونے دیتا اور بالوں میں چاندنی ڈھلک جاتی ہے۔ منزل کا نشان تو کیا ہر موڑ پر اک نیا سنگ میل ہوتا ہے جس پر نام لکھوں یا مٹائوں کسے خبر ہونا ہے۔ یہ احساس جب سعید خان کے ہاں قیام کرتا ہے تو لکھتے ہیں
اب ہم کو کسی سے بھی شکایت نہیں رہتی
اس حشر کے آگے تو کوئی قیامت نہیں رہتی
دل اب بھی دھڑکتا ہے ترے نام پہ لیکن
اب دیر تلک کوئی بھی ساعت نہیں رہتی
عمر کے اس آئینہ خانے میں کتنی ہی تصویریں ہیں جنہیں ہاتھ لگائیں تو ہتھیلیوں پر مقدر کی لکیریں پھیکی پڑ جائیں ٗ ہونٹ چھو لیں تو پیاس کے صحیفے اتریں۔ ۔ ۔ عجیب ہے قصہ شب و روز بھی۔ کبھی تدبیر کی حیرانی ٗ کبھی تکمیل کی جولانی ٗ کبھی فتح مندی کا غرور کبھی شکست سے چور چور ٗ گمان و یقین ہم رقص نظر آتے ہیں۔ اس پر بھی سعید فیصلہ کن استدلال کے ساتھ کہتے ہیں۔
لب کشا شہرِ ملامت ہے چلو پوچھتے ہیں
ہم سے کس کس کو شکایت ہے چلو پوچھتے ہیں
میری رسوائی پہ چپ میرے شناسائوں کی
بے بسی ہے کہ مروت ہے چلو پوچھتے ہیں
کسی بے درد رفاقت کا نشاں ہے شاید
اس کی آنکھوں میں جو وحشت ہے چلو پوچھتے ہیں
ان کی شاعری میں کناروں کے درمیان بہتے ہوئے دریا کی لہروں کا اطمینان اور سرشاری ہے۔ ایک زخم خوردہ آگاہی ٗ اک خوشگوار سادگی ٗ اک انا پرست سپردگی ۔ ۔ ۔ دریا جو سیلاب کرتا ہے۔ مگر بے آب کر دینے کے اختیار کے ساتھ۔ غلامی میں بھی طبع حکمرانی سعید کے ہاں غالب ہے۔
وہی ہے دل کی ضرورت جو آس پاس رہے
کسی کے ہجر میں کب تک کوئی اداس رہے
نہ وحشتوں کو رہا ہے خیال رسوائی
نہ کوئے یار کے سنگ آئینہ شناس رہے
نصیب جاں تھے عجب فاصلے محبت میں
نہ اس سے دور رہے ہم نہ اس کے پاس رہے
چند دہائیاں پیشتر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اردو ادب کے عہد ساز شاعر احمد فراز نے عشق میں انانیت پسندی کو جدید فکری تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے شاعری میں ایک تازہ روایت کی بنیاد رکھی۔ پورے قد سے کھڑے مغلوب وفا کا مدلل اور پروقار لب و لہجہ مگر ریشمی جذبہ و احساس سے آراستہ۔اس کے بعد لکھی جانے والی نظم و غزل میں اس اندازکا گہرا اثر ملتا ہے۔ سعید بھی متاثر نظر آتے ہیں مگر اس کو خوب نبھاتے ہیں۔
آنکھوں کو زخم زخم تو دل کو لہو کریں
پھر جی یہ چاہتا ہے تری جستجو کریں
حائل ہیں اپنی راہ میں ہم خود انا پرست
خود کو بھلا سکیں تو تری آرزو کریں
جیسے سب اہلِ شہر مرے غم شناس ہو ں
جب گفتگو کریں تو تری گفتگو کریں
اس حرف آخر کے ساتھ کہ سعید اپنے جنون میں حرف کو لفظ ۔ ۔ ۔ لفظ کو معانی ۔ ۔ ۔ معانی کو کہانی کر دینے کی انفرادیت کے امانتدار ٹھہریں۔
نوشی گیلانی
تو بتا اے دلِ بیتاب کہاں آتے ہیں
ہم کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں
میں تو یکمشت اسے سونپ دوں سب کچھ لیکن
ایک مٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں
مدتوں بعد تجھے دیکھ کے دل بھرآیا
ورنہ صحرائوں میں سیلاب کہاں آتے ہیں
میری بیدار نگاہوں میں اگر بھولے سے
نیند آئے بھی تو اب خواب کہاں آتے ہیں
شدتِ درد ہے یا کثرتِ مے نوشی ہے
ہوش میں اب ترے بے تاب کہاں آتے ہیں
ہم کسی طرح ترے در پہ ٹھکانہ کر لیں
ہم فقیروں کو یہ آداب کہاں آتے ہیں
سر بسر جن میں فقط تیری جھلک ملتی تھی
اب میسر ہمیں وہ خواب کہاں آتے ہیں
اپنا سب کچھ تری نظروں پہ نچھاور کر کے
اپنی آنکھیں تری صورت سے میں آباد کروں
سانس کی لے ہے کہ منہ زور نشے کے جھونکے
دل کی دھڑکن ہے کہ دستک ہے ترے خوابوں کی
جیسے بے ساختہ نس نس میں لہو رقصاں ہو
جیسے احساس میں بس جائے کسی کی خوشبو
جیسے یہ شام ستاروں کی کوئی منزل ہے
جیسے ان لمحوں میں لرزاں ہے تصور کا بدن
جیسے یہ بزمِ سخن بھی ہے کوئی سادہ سی
ایک ناکام سعی تیری ثناء خوانی کی
کس کی جرات ہے کہ تفسیر کرے حسن ترا
تو کہ بت ہو کے بھی غافل نہیں خاموش نہیں
جیسے لمحوں میں اتر آئی ہے صدیوں کی طلب
میری حیرت کا یہ عالم کہ مجھے ہوش نہیں
اپنا سب کچھ تیری نظروں پر نچھاور کر کے
اپنی آنکھیں تری صورت سے میں آباد کروں
وفا سے یوں تو بے بہرہ نہیں ہے
مگر یہ دل کہیں ٹھہرا نہیں ہے
غمِ دوراں نہ ہو جس کا مداوا
کوئی دکھ اس قدر گہرا نہیں ہے
ترے جیسے کئی دیکھے ہیں لیکن
ان آنکھوں میں کوئی ٹھہرا نہیں ہے
ہمارے خواب ہی پتھرا گئے ہیں
ہماری سوچ پر پہرا نہیں ہے
کسی بت سے سعید اپنا تعلق
سمندر ہے مگر گہرا نہیں ہے
مری افراد یتی
تجھے اک نظر دیکھ کر میرے اندر
یکایک
مری سات پشتوں کی سرگوشیاں
جی اٹھی ہیں
مری روح
جو اک فسردہ خلا تھی
عبادت کدہ ہے
مرے جسم کا دل گرفتہ پجاری
پرستش کی ضد کر رہا ہے
مری افراد یتی
تری مسکراہٹ
تری مائل و کافرانہ نظر سے
یہ لگتا ہے جیسے
تجھے سب خبر ہے
کہ شاید کہیں اس سے پہلے بھی ہم
مور اور مورنی کا یہ رقصِ طلب
کر چکے ہیں
Aphroditeمحبت کی یونانی دیوی
فراز کے نام ایک خط۔ ۔ ۔ اگست2005
فراز تجھ پہ نچھاور ہیں اہلِ دیدہ و دل
تو ایک جاں ہے مگر قافلے کی صورت ہے
فراز تجھ سے ہراساں ہیں اہلِ حرص و ہوس
کہ حرف حرف ترا آئینے کی صورت ہے
ترا فراز مدح خوانِ دست بستہ کو
کسی سند کسی دربار سے نہیں ملنا
ترا فراز کسی ’’بارہویں کھلاڑی‘‘ کو
جنونِ خلعت و دستار سے نہیں ملنا
ترا فراز کسی دستۂِ سبک سر کو
فروغِ حلقہِ خونخوار سے نہیں ملنا
ترا فراز کسی خود سِتا محاسب کو
فریبِ گردشِ بازار سے نہیں ملنا
فراز تجھ پہ نچھاور ہیں اہل دیدہ و دل
تیرے الجھے ہوئے جذبات سے کیا کچھ نمایاں ہے
کبھی ان مہرباں آنکھوں سے حیرانی جھلکتی ہے
کبھی اس پھول سے چہرے سے ویرانی جھلکتی ہے
تری چاہت کے اک پل میں کئی موسم نکلتے ہیں
تری خوشیوں کے دامن میں بھی اکثر غم نکلتے ہیں
یہ دکھ ان محترم خوابوں کی ناقدری کا ماتم ہے
جو ٹھکرائے گئے کہہ کر فریبِ داستان اب تک
یہ دکھ اس بے سکوں دھرتی کا بے آواز گریہ ہے
جسے پامال کرتے ہیں ہوس کے کارواں اب تک
یہ دکھ ان بے سرو سامان لوگوں کی امانت ہے
جنہیں تہذیب نے لاکر سجایا قتل گاہوں میں
یہ دکھ ان گمشدہ نسلوں کی پوشیدہ نشانی ہے
جنہیں سونپا گیا تھا چھین کر مذہب کی بانہوں میں
ترے الجھے ہوئے جذبات سے کیا کچھ نمایاں ہے
Eoraآسٹریلیا کے آبائی Aboriginalقبیلے کے لوگوں کیلئے استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ’’مقامی‘‘ کے ہیں۔
لٹ چکے بک چکے پھر بھی آزار میں
کب سے بے بس ہیں مغرب کے بازار میں
یہ کمانیں، یہ شمشیر و تیر و سناں
میرے آباء کی جدوجہد کے نشاں
یہ چاندی یہ سونا یہ لعل وگہر
جاوداں کر گیا جن کو دستِ ہنر
یہ شکستہ صنم یہ حسیں مورتیں
میری تہذیب کی گمشدہ صورتیں
یہ ٹوٹی ہوئی خوشنما طشتری
جس پہ لکھی ہے تاریخِ کوزہ گری
یہ شکستہ صراحی پہ تشنہ سبو
مجھ سے کرتے ہیں بے ساختہ گفتگو
جا بجا یہ نوادر سجائے ہوئے
مجھ سے شاکی ہیں یہ بت چرائے ہوئے
لٹ چکے ٗ بک چکے ٗ پھر بھی آزار میں
کب سے بے بس ہیں مغرب کے بازار میں
حالیہ تبصرے