تازہ نظم: سُن روہی کی رانی

تازہ شاعریابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

کب تک سورج صحرا صحرا تیرا رستہ دیکھے
کب تک چاند ستارے کاٹیں لمبی لمبی راتیں

ریت کا ذرہ ذرہ تیری خوشبو کا متوالا
کب تک اُونٹ قطاریں کھینچیں تیرے ہجر کی مالا
دھرتی اپنا روپ گنوا کر کس کے ناز اُٹھائے
تیری آس میں رستہ رستہ کب تک خاک اُڑائے
سُن روہی کی رانی تجھ بن روٹھ گئیں برساتیں

مان سِوا کیا حسن کی دولت، کیا جھومر کیا ٹیکا
کھو گئ ہار سنگھار کی مستی، کپڑوں کا رنگ پھیکا
اُجڑے اُجڑے میلے سارے، سُونی سُونی ہٹیاں
کسی کے ہجر میں آدھی رہ گئیں نازک نازو جٹیاں
آتا جاتا ہر موسم کرتا ہے تیری باتیں

کب تک سورج صحرا صحرا تیرا رستہ دیکھے
کب تک چاند ستارے کاٹیں لمبی لمبی راتیں

سعید
سڈنی

کیا جانئے عاشق ہے کہ محبوب کوئی ہے

تازہ شاعریابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

کیا جانئے عاشق ہے کہ محبوب کوئی ہے
اِس دل کے دروبام سے منسوب کوئی ہے

آرام کہاں عشق و عبادت میں بھی دل کو
بت کوئی مقابل ہے تو مطلوب کوئی ہے

کیا کم ہے تعلق کے اس آشوب میں رہ کر
ہم جیسے خرابوں سے بھی منسوب کوئی ہے

پھر درپئے آزار ہیں فرقت کی ہوائیں
پھر بامِ شبِ ہجر پہ مصلوب کوئی ہے

تحریر بھی تصویر بنا دیتی ہے اس کی
ہاتھوں کی لکیروں سے جو منسوب کوئی ہے

پھرتے ہیں سعید اور سخنور یہاں کتنے
کب تجھ سا مگر صاحبِ اسلوب کوئی ہے