تازہ نظم: سُن روہی کی رانی

تازہ شاعریابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

کب تک سورج صحرا صحرا تیرا رستہ دیکھے
کب تک چاند ستارے کاٹیں لمبی لمبی راتیں

ریت کا ذرہ ذرہ تیری خوشبو کا متوالا
کب تک اُونٹ قطاریں کھینچیں تیرے ہجر کی مالا
دھرتی اپنا روپ گنوا کر کس کے ناز اُٹھائے
تیری آس میں رستہ رستہ کب تک خاک اُڑائے
سُن روہی کی رانی تجھ بن روٹھ گئیں برساتیں

مان سِوا کیا حسن کی دولت، کیا جھومر کیا ٹیکا
کھو گئ ہار سنگھار کی مستی، کپڑوں کا رنگ پھیکا
اُجڑے اُجڑے میلے سارے، سُونی سُونی ہٹیاں
کسی کے ہجر میں آدھی رہ گئیں نازک نازو جٹیاں
آتا جاتا ہر موسم کرتا ہے تیری باتیں

کب تک سورج صحرا صحرا تیرا رستہ دیکھے
کب تک چاند ستارے کاٹیں لمبی لمبی راتیں

سعید
سڈنی

دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے

Videosابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

Saeed khan reciting his poetry on PTV Raatgaye program 15 Jan 2007, Lahore.

کیا جانئے عاشق ہے کہ محبوب کوئی ہے

تازہ شاعریابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

کیا جانئے عاشق ہے کہ محبوب کوئی ہے
اِس دل کے دروبام سے منسوب کوئی ہے

آرام کہاں عشق و عبادت میں بھی دل کو
بت کوئی مقابل ہے تو مطلوب کوئی ہے

کیا کم ہے تعلق کے اس آشوب میں رہ کر
ہم جیسے خرابوں سے بھی منسوب کوئی ہے

پھر درپئے آزار ہیں فرقت کی ہوائیں
پھر بامِ شبِ ہجر پہ مصلوب کوئی ہے

تحریر بھی تصویر بنا دیتی ہے اس کی
ہاتھوں کی لکیروں سے جو منسوب کوئی ہے

پھرتے ہیں سعید اور سخنور یہاں کتنے
کب تجھ سا مگر صاحبِ اسلوب کوئی ہے

انتساب

ایک مٹھی میں میرے خوابابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

احمد فرازسعید
احمد فراز کے نام

سعید کی شاعری - احمد فراز

ایک مٹھی میں میرے خوابابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

اردو شاعری کی فضا میں سعید کی آواز تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہے۔
سعید کے تازہ مجموعہ کلام ایک مٹھی میں مرے خواب میں شامل نظمیں اور غزلیں اس کے خواب سہی مگر ان کا پھیلاوً اہل دل کی دنیا کو محیط کئے ہوئے ہے۔ سعید نے جس معاشرے میں رہ کر شاعری کی ہے دیگر محاسن کے علاوہ وہاں کے لوگوں کی محرومیوں اور اداسیوں کی جھلک اس کی شاعری میں واضح اور نمایاں نظر آتی ہے اور مغربی معاشرے میں رہ کر سبھی چھوٹے بڑے تجربات کا احاطہ کرتی ہے۔ ہجرت زدگی کی کوکھ سے ابھرنے والے تہذیبی اور سماجی مسائل اس کی شاعری کا خاص موضوع ہیں اور بعض نظموں کے موضوعات اتنے اچھوتے ہیں جنکی مثال ہمیں کہیں اور نہیں ملتی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
احمد فراز

عشق کا فیض-از نوشی گیلانی

ایک مٹھی میں میرے خوابابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

عشق ہی تو ہے جو بصارت کو بصیرت میں۔ ۔ ۔ وحشت کو عبادت میں ۔ ۔ ۔ عداوت کو رضاعت میں یوں تبدیل کرتا ہے کہ عمر کے منظرنامے پر نئے رنگوں کے نقش بننے لگتے ہیں۔ زرد پھولوں کی بارش بھی ہوا کے آنچل پر اپنے لمس کے انگار اس طرح چھوڑ جاتی ہے کہ روح کے رخسار ان کی نرمیوں سے دہک اٹھیں۔
بدن کی مٹی میں عشق کا گلاب جڑ پکڑ لیتا ہے تو درویش کا چولا کتنا ہی میلا کیوں نہ ہو اس کا وجدان خوشبو کے معجزے تخلیق کرتا ہے۔ ۔ ۔ روشنی کی آیتیں تحریر کرتا ہے ٗ کبھی عروسِ شب کی پیشانی پر تو کبھی بادِ صبح کی حیرانی پر۔ اک کیفیت حال دھمال ہے جو اندر کا الائو بجھنے نہیں دیتی۔ آہوں کی پکھیاں جھلتے سانسوں کی تسبیح ٹوٹنے لگتی ہے۔ ہڈیوں کا بالن بن جاتا ہے۔ پر ہستی میں مستی ٗ فقیری میں بادشاہی ٗ نیاز مندی میں بے نیازی کا بھید مل جاتا ہے۔ گویا عشق کا فیض بھی دعا کے فیض کی طرح جلد یا بدیر اپنی تاثیر کی گواہی دیتا ہے اور جب اس کیفیت کا دائرہ شاعر کے گرد بنتا ہے تو لفظ قوت اظہار کے ہم سفر ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمسفری خواہ چاند تاروں کی ہو یا شب آثاروں کی اپنے ہنر تو اجاگر کرتی ہے سو شاعری کبھی خیمہ۔ ۔ ۔ میں تو کبھی چاندنی کے جائے نماز پر سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔ یہ موسم سعید کے آنگن میں ٹھہرتا ہے تو وہ کہتے ہیں۔
میں آوارہ بادل ہوں
تو ساون کی تیز ہوا
آئو مل کر خوابوں کو تصویر کریں
جب تھک جائیں
قطرہ قطرہ
رم جھم ٗ رم جھم
خاک میں سوئی خوشبو کو بیدار کریں
رنگوں کو آزاد کریں۔
کون ہے جو راتوں میں خوابوں کا پڑائو نہیں چاہتا مگر یہ کوئی ایسا نگر ہے جو خواہش سے مشروط ہے۔ ہجرو وصال کے جزیروں پر کوئی اور یہ ضابطے ترتیب دینے والا۔ کوئی جذبہ دیوانگی ہے جس کی مدھر ان دیکھی گونگی زنجیریں جو پائوں پڑ جاتی ہیں اور جو سنائی دیں نہ دکھائی پر ان کیلئے وجود کو کہیں تھمنے نہ دے اور رتجگے جو مسکراتے رہیں آنکھوں کی خوشنما حویلیوں میں
ادھر جبیں پہ سنبھلتے نہیں مرے سجدے
اِدھر خدا کا عبادت سے جی نہیں بھرتا
وہ محوِ شوق ہے کب سے مگر مرے اندر
عجب خلا ہے محبت سے جی نہیں بھرتا

شعلہِ غم آتش دل جو بھی ہو
وقت لگتا ہے دھواں ہوتے ہوئے
صحن شعور میں کیا کیا عالم نہیں گزرتے۔کبھی بھیگتی راتوں میں دور تک پھیلے اجنبی ٹیلوں کے درمیان بنتے راستوں پر قافلے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں تو کوئی صحرائی آواز کونجوں سے ہم کلام گیت گاتی ہے اور راستے بناتی جاتی ہے جیسے جستجو کی تسخیر کو بصارت مل جائے۔
کبھی بچپن والے با غوں میں پرندوں کے پر اکٹھے کرنے کا جنون ماہ و سال گزرنے کا احساس نہیں ہونے دیتا اور بالوں میں چاندنی ڈھلک جاتی ہے۔ منزل کا نشان تو کیا ہر موڑ پر اک نیا سنگ میل ہوتا ہے جس پر نام لکھوں یا مٹائوں کسے خبر ہونا ہے۔ یہ احساس جب سعید خان کے ہاں قیام کرتا ہے تو لکھتے ہیں
اب ہم کو کسی سے بھی شکایت نہیں رہتی
اس حشر کے آگے تو کوئی قیامت نہیں رہتی
دل اب بھی دھڑکتا ہے ترے نام پہ لیکن
اب دیر تلک کوئی بھی ساعت نہیں رہتی
عمر کے اس آئینہ خانے میں کتنی ہی تصویریں ہیں جنہیں ہاتھ لگائیں تو ہتھیلیوں پر مقدر کی لکیریں پھیکی پڑ جائیں ٗ ہونٹ چھو لیں تو پیاس کے صحیفے اتریں۔ ۔ ۔ عجیب ہے قصہ شب و روز بھی۔ کبھی تدبیر کی حیرانی ٗ کبھی تکمیل کی جولانی ٗ کبھی فتح مندی کا غرور کبھی شکست سے چور چور ٗ گمان و یقین ہم رقص نظر آتے ہیں۔ اس پر بھی سعید فیصلہ کن استدلال کے ساتھ کہتے ہیں۔

لب کشا شہرِ ملامت ہے چلو پوچھتے ہیں
ہم سے کس کس کو شکایت ہے چلو پوچھتے ہیں
میری رسوائی پہ چپ میرے شناسائوں کی
بے بسی ہے کہ مروت ہے چلو پوچھتے ہیں
کسی بے درد رفاقت کا نشاں ہے شاید
اس کی آنکھوں میں جو وحشت ہے چلو پوچھتے ہیں
ان کی شاعری میں کناروں کے درمیان بہتے ہوئے دریا کی لہروں کا اطمینان اور سرشاری ہے۔ ایک زخم خوردہ آگاہی ٗ اک خوشگوار سادگی ٗ اک انا پرست سپردگی ۔ ۔ ۔ دریا جو سیلاب کرتا ہے۔ مگر بے آب کر دینے کے اختیار کے ساتھ۔ غلامی میں بھی طبع حکمرانی سعید کے ہاں غالب ہے۔
وہی ہے دل کی ضرورت جو آس پاس رہے
کسی کے ہجر میں کب تک کوئی اداس رہے
نہ وحشتوں کو رہا ہے خیال رسوائی
نہ کوئے یار کے سنگ آئینہ شناس رہے
نصیب جاں تھے عجب فاصلے محبت میں
نہ اس سے دور رہے ہم نہ اس کے پاس رہے
چند دہائیاں پیشتر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اردو ادب کے عہد ساز شاعر احمد فراز نے عشق میں انانیت پسندی کو جدید فکری تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے شاعری میں ایک تازہ روایت کی بنیاد رکھی۔ پورے قد سے کھڑے مغلوب وفا کا مدلل اور پروقار لب و لہجہ مگر ریشمی جذبہ و احساس سے آراستہ۔اس کے بعد لکھی جانے والی نظم و غزل میں اس اندازکا گہرا اثر ملتا ہے۔ سعید بھی متاثر نظر آتے ہیں مگر اس کو خوب نبھاتے ہیں۔
آنکھوں کو زخم زخم تو دل کو لہو کریں
پھر جی یہ چاہتا ہے تری جستجو کریں
حائل ہیں اپنی راہ میں ہم خود انا پرست
خود کو بھلا سکیں تو تری آرزو کریں
جیسے سب اہلِ شہر مرے غم شناس ہو ں
جب گفتگو کریں تو تری گفتگو کریں
اس حرف آخر کے ساتھ کہ سعید اپنے جنون میں حرف کو لفظ ۔ ۔ ۔ لفظ کو معانی ۔ ۔ ۔ معانی کو کہانی کر دینے کی انفرادیت کے امانتدار ٹھہریں۔
نوشی گیلانی

مسیحا

Videosابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

رات گئے 1- نہ خواہشوں کی کمی تھی نہ چاہتیں کم تھیں

Videosابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »


تو بتا اے دلِ بیتاب کہاں آتے ہیں

ایک مٹھی میں میرے خوابابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

تو بتا اے دلِ بیتاب کہاں آتے ہیں
ہم کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں

میں تو یکمشت اسے سونپ دوں سب کچھ لیکن
ایک مٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں

مدتوں بعد تجھے دیکھ کے دل بھرآیا
ورنہ صحرائوں میں سیلاب کہاں آتے ہیں

میری بیدار نگاہوں میں اگر بھولے سے
نیند آئے بھی تو اب خواب کہاں آتے ہیں

شدتِ درد ہے یا کثرتِ مے نوشی ہے
ہوش میں اب ترے بے تاب کہاں آتے ہیں

ہم کسی طرح ترے در پہ ٹھکانہ کر لیں
ہم فقیروں کو یہ آداب کہاں آتے ہیں

سر بسر جن میں فقط تیری جھلک ملتی تھی
اب میسر ہمیں وہ خواب کہاں آتے ہیں

قصیدہ

ایک مٹھی میں میرے خوابابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

اپنا سب کچھ تری نظروں پہ نچھاور کر کے
اپنی آنکھیں تری صورت سے میں آباد کروں

سانس کی لے ہے کہ منہ زور نشے کے جھونکے
دل کی دھڑکن ہے کہ دستک ہے ترے خوابوں کی
جیسے بے ساختہ نس نس میں لہو رقصاں ہو
جیسے احساس میں بس جائے کسی کی خوشبو

جیسے یہ شام ستاروں کی کوئی منزل ہے
جیسے ان لمحوں میں لرزاں ہے تصور کا بدن
جیسے یہ بزمِ سخن بھی ہے کوئی سادہ سی
ایک ناکام سعی تیری ثناء خوانی کی
کس کی جرات ہے کہ تفسیر کرے حسن ترا
تو کہ بت ہو کے بھی غافل نہیں خاموش نہیں
جیسے لمحوں میں اتر آئی ہے صدیوں کی طلب
میری حیرت کا یہ عالم کہ مجھے ہوش نہیں

اپنا سب کچھ تیری نظروں پر نچھاور کر کے
اپنی آنکھیں تری صورت سے میں آباد کروں